ڈرون مار گرانے والی لیزر ٹیکنالوجی کا تجربہ
اس کمپنی نے زیادہ توانائی کے حامل لیزر آلات کا استعمال کیا ہے جس کی مدد سے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے ڈرون طیاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس لیزر سسٹم میں دو ہتھیار موجود ہوتے ہیں اور ان کی مدد سے ایک کلومیٹر فاصلے سے فولاد کے گارڈر کو کاٹا جا سکتا ہے۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اس نظام کو موبائل یعنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے قابل بنایا جائے اور اس میں خود کار توپیں موجود ہوں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ پچاس کلو واٹ توانائی کی حامل اس سسٹم میں ریڈار اور آپٹیکل نظاموں کے تحت تیزی سے آنے والے ڈرونز کی نشاندہی اور ان پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق پچاس میٹر فی سکینڈ کی رفتار سے پرواز کرنے والے ڈرون جب فائرنگ کے لیے مختص علاقے میں پہنچے تو ان کو مار گرایا گیا۔
اس لیزر سسٹم میں پندرہ ملی میٹر موٹے فولاد کے گارڈر کو کاٹنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
کمپنی نے اس نظام کی برف، بارش سمیت مختلف موسموں حالات میں آزمائش کی ہے۔
رائن میٹل ڈیفنس کمپنی کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ اس لیزر سسٹم کومختلف حرکت کرتی گاڑیوں پر آزمایا جائے اور اس کے اوپر پینتیس ایم ایم کی توپ نصب کی جائے۔
مختلف مالک اور دفاعی سازو سامان تیار کرنے والے کمپنیاں لیزر ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیار بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ سال دو ہزار دس میں ایک امریکی کمپنی نے ایئر شو
