کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار
کراچی: کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 96.46 پوائنٹس کے اضافہ سے 16742.22 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 94.89 پوائنٹس کے اضافہ ہوا۔
بدھ کو کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحان کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 96.46 پوائنٹس کے اضافہ سے 16742.22 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 94.89 پوائنٹس کے اضافہ سے 13696.41 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کے ایس سی آل شیئر انڈیکس میں 58.40 پوائنٹس کی تیزی رہی جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس میں بھی 190.93 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔
مجموعی طور پر 319 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جن میں سے 165 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تیزی، 128 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں مندی اور 26 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
سب سے زیادہ تیزی یونی لیور پاکستان کے حصص کی قیمتوں میں ہوئی جس کے حصص کی قیمت 80.77 روپے کے اضافہ سے 10080.77 روپے پر بند ہوئی۔ اسی طرح اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ کے حصص کے سودے بھی 5.80 روپے کی تیزی سے 511.55 روپے پر بند ہوئے۔
سب سے زیادہ مندی پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اور ایبٹ لیباریٹریز کے حصص کی قیمتوں میں ہوئی۔ پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل کے حصص کی قیمت 9.91 روپے کی مندی سے 205.28 روپے اور ایبٹ لیباریٹریز کے شیئر کی قیمت بھی 9.35 روپے کی کمی سے 203.67 روپے رہ گئی۔
سب سے زیادہ کاروبار میپل لیف سیمنٹ کے حصص میں ہوا جو 1 کروڑ 45 لاکھ 16 ہزار 500 شیئرز رہا جس کی قیمت 15.50 روپے سے شروع ہو کر 15.76 روپے پر بند ہوئی۔
مجموعی طور پر 9 کروڑ 9 لاکھ 90 ہزار 80 حصص کا کاروبار ہوا جس کا تجارتی حجم 3 ارب 7کروڑ 94 لاکھ 16 ہزار 842 روپے رہا۔
مارکیٹ کیپیٹل 41 کھرب 71 ارب 65 کروڑ 28 لاکھ 32 ہزار 744 روپے سے بڑھ کر 41 کھرب 92 ارب 35 کروڑ 17 لاکھ 71 ہزار 595 روپے ہو گیا۔
فیوچر ٹریڈنگ میں 73 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تیزی، 23 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں مندی اور 4 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا جبکہ 51 لاکھ 13 ہزار 440 حصص کا کاروبار ہوا۔
