گرین شرٹس سیمی فائنل میں
ہندوستان سے پاکستانی کھلاڑیوں کی واپسی
لاہور: انڈین ہاکی لیگ کھیلنے کیلئے ہندوستان جانے والے پاکستان کے نو کھلاڑی سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ٹورنامنٹ ادھوارا چھوڑ کر وطن واپس پہنچ گئے۔
ان کھلاڑیوں میں عمران بٹ ،راشد ،فرید ،توثیق ،عرفان ،شفقت رسول ،رضوان سینئر ،رضوان جونیئراور کاشف شاہ شامل ہیں۔
علامہ اقبال ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران بٹ، شفقت رسول، فرید احمد اور توثیق احمد نے کہا کہ ہندوستان میں ایک انتہا پسند گروپ کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان اور انڈین ہاکی فیڈریشنز نے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کافیصلہ کیا۔
انکا کہنا تھا کہ انڈیا میں انہیں بہت اچھی سیکورٹی ملی تھی لیکن دونوں فیدڑیشنوں نے کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لئے یہ قدم اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈین ہاکی فیڈریشنزکے آپس میں اچھے تعلقات ہیں ،امید ہے کہ اس فیصلہ سے ان کے تعلقات میں کوئی خرابی نہیں آئے گی ،ہندوستان سے واپس آنے پر افسوس ہے لیکن امید ہے کہ مستقبل میں معاملات بہتر ہوں گے۔
واضح رہے کہ انڈین ہاکی لیگ 14 جنوری سے 11 فروری تک ہندوستان کے مختلف شہروں میں کھیلی جارہی ہے جس میں مختلف ملکوں کے 126 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سیکورٹی خدشات کی بناء پرہاکی انڈیا کے حکام سے مشاورت کے بعدان کھلاڑیوں کو پاکستان واپس آنے حکم دیا تھا۔
پی ایچ ایف کے سیکرٹری آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ انڈین حکام چند پاکستانی کھلاڑیوں کو سیکورٹی مہیا نہیں کرسکے جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند روز سے ہندوستان میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں کو ہندو انتہا پسند تنظیم کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں،ہم اپنے گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی انڈیا کے ساتھ کھلاڑیوں کا تین سال کا معاہدہ ہوا ہے، انہیں تمام ادائیگی ہوگی،امید ہے کہ انڈین ہاکی لیگ کے اگلے ایڈیشن تک معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی ہندوستان سے واپسی کا پاکستان اور انڈیا کے مابین مارچ اپریل میں ہونے والی دو طرفہ ہاکی سیریز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
