ہندوستان کا ‘سرحدی حملے’ پر احتجاج
نئی دہلی: انڈیا نے بدھ کو نئی دہلی میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے ایل او سی پار حملے میں اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا ہے۔
انڈین فوج کا کہنا ہے کہ یہ دو فوجی منگل کی دوپہر متنازعہ کشمیر میں اس وقت ہلاک ہوئے جب شدید دھند میں گشت کرنے والے محافظوں کی ٹیم کی ہندوستانی علاقے میں دراندازی کرنے والے پاکستانی فوجیوں سے جھڑپ ہوئی۔
وزارت کے ترجمان سید اکبر الدین نے اے ایف پی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی سفیر کو سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دو فوجیوں میں سے ایک کی لاش کو ‘بری طرح مسخ’ کیا گیا ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس اور عسکری ذرائع کے مطابق ایک فوجی کا سر تن سے جدا کیا گیا ہے۔
فوجی ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو راجوڑی کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کے پوسٹ مارٹم کے بعد معلوم ہو گا کہ ان کے زخموں کی نوعیت کیا ہے اور آیا ایک فوجی کا سر تن سے جدا کیا گیا کہ نہیں۔
دوسری جانب، وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ‘پاکستان فوج کی کارروائی کو اشتعال انگیز’ قرار دیا ہے۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوجی کی لاش سے کیا گیا برتاؤ ‘غیر انسانی’ ہے۔
